محمد رفیع سودا

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا

01 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے

برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے کہیں ہیں جس کو سوداؔ وہ دل آگاہ کے صدقے جتا دیں جس جگہ ہم قدر اپنی ناتوانی کی اگر کہسار واں ہووے تو جاوے کاہ کے صدقے نہ دے تکلیف جلنے کی کسو کے دل کو میرے پر اثر سے دور رہتی ہیں میں اپنی آہ کے صدقے عجائب شغل میں تھے رات تم اے شیخ رحمت ہے میں اس ریش بلند اور دامن کوتاہ کے صدقے نہیں بے وجہ کوچے سے ترے اٹھنا بگولے کا ہماری خاک بھی جاتی ہے تیری راہ کے صدقے کبھو وہ شب بھی اے پروانہ حق باہم دکھاوے گا تو بل بل شمع پر جاوے میں ہوں اس ماہ کے صدقے دکھاتی ہے تجھے کس کس طرح سوداؔ کی نظروں میں جو ہو انصاف تو جاوے تو اس کی چاہ کے صدقے

— محمد رفیع سودا

گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے

گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے دل دار تو ہوا تو دل آزار کون ہے نالاں ہوں مدتوں سے ترے سایہ کے تلے پوچھا نہ یہ کبھو پس دیوار کون ہے ہر شب شراب خوار ہر اک دن سیاہ ہے آشفتہ زلف و لٹپٹی دستار کون ہے ہر آن دیکھتا ہوں میں اپنے صنم کو شیخ تیرے خدا کا طالب دیدار کون ہے سوداؔ کو جرم عشق سے کرتے ہیں آج قتل پہچانتا ہے تو یہ گنہ گار کون ہے

— محمد رفیع سودا

آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص

آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص آسودہ زیر خاک نہیں آشنائے حرص ممکن نہیں ہے یہ کہ بھرے کاسۂ طمع دن میں کروڑ گھر جو پھرا دے گدائے حرص انساں نہ ہوں ذلیل زمانے کے ہاتھ سے ذلت کسی کو کوئی نہ دیوے سوائے حرص کر منہ کو ٹک بسوے قناعت یہ حرف مان رہتی ہے لاکھ طرح کی آفت قفائے حرص ناداں تلاش طرۂ زر سے تو باز آ جوں شمع یہ نہ ہو کہ ترا سر کٹائے حرص اپنے سوا کسی کو نہ پایا حریف حیف کی قطع روزگار نے ہم پر قبائے حرص سوداؔ بسر ہو خوبی سے اوقات ہر طرح پر درمیاں نہ ہووے بشرطیکہ پائے حرص

— محمد رفیع سودا

اداسی ، رنج ، اذیت ، خسارے آجائیں

اداسی ، رنج ، اذیت ، خسارے آجائیں ہے جن سے گہرا تعلق وہ سارے آجائیں تم اپنے اشک گراؤ مری ہتھیلی پر مبادا پاؤں کے نیچے یہ تارے آجائیں جو نیم جان تھے ، بے جان ہوگئے سو اُنہیں ذرا سا موج اچھالے ، کنارے آ جائیں کسی طرح تو یہ سکراتِ ہجر ٹوٹے بھی اٹھا کے رحل ، وظیفے ، سپارے آ جائیں لگے بندھے ہوئے مصرعے بدل سکوں اے کاش خدایا ذہن میں کچھ استعارے آ جائیں میں عشق کر کے بھی زندہ ہوں ، دیکھنے کے لیے یہ ششدران ، یہ حیرت کے مارے ، آ جائیں پناہ چاہئیے ؟ دی جان کی امان ، سو آپ بلا جھجھک یہاں ، دل میں ہمارے آ جائیں میں ایک پیڑ ہوں کہنے کی دیر ہے کومل سبھی کے ہاتھوں میں کلہاڑے ، آرے آجائیں

— کومل جوئیہ